index.php

Writer Khursheed Nadeem

2 months ago

سیاسی حرکیات کی تفہیم

Khursheed Nadeem    خبریں   

کیا آپ نے مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت سوانح ''نقشِ حیات‘‘ پڑھی ہے؟
کیا مولانا ابوالکلام آزاد کی (India Wins Freedom) آپ کی نظر سے گزری ہے؟
کیا آپ کو مولانا عبداللہ لغاری کے قلم سے نکلی ہوئی ''مولانا عبیداللہ سندھی کی سرگزشتِ کابل‘‘ کے مطالعے کا موقع ملا ہے؟
ان سوالات سے خدانخواستہ آپ کا امتحان لینا مقصود نہیں۔ مقصد کچھ اور ہے، جس کا ذکر میں چند سطروں کے بعد کروں گا۔
مولانا ابوالکلام آزاد جب ہندوستان کے علمی و سیاسی افق پر نمودار ہوئے تو ان کے جاہ و جلال کا رنگ ہی کچھ اور تھا۔ مسلمانوں نے جانا کہ کوئی ان کی عظمتِ رفتہ کو آواز دے رہا ہے۔ انہیں خیال ہوا کہ قرنِ اوّل کا کوئی ہیرو کتابوں کے اوراق سے نکل کر، ان کی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ 'ہندوستان میں حکومت ِالہیہ کا قیام‘... کیا شاندار نعرہ تھا جو اہلِ اسلام کے کانوں سے ٹکرایا اور ان کی سماعتوں کو مسحور کر گیا۔ اہلِ علم نے محسوس کیا کہ ابن تیمیہ اور صلاح الدین ایوبی ایک قالب میں ڈھل گئے ہیں۔ شیخ الہند جیسے رجلِ رشید نے گمان کیا کہ وہ امامِ وقت آ گیا ہے جس کا انتظار تھا۔............

2 months ago

سیاسی حرکیات کی تفہیم

Khursheed Nadeem    خبریں   

کیا آپ نے مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت سوانح ''نقشِ حیات‘‘ پڑھی ہے؟
کیا مولانا ابوالکلام آزاد کی (India Wins Freedom) آپ کی نظر سے گزری ہے؟
کیا آپ کو مولانا عبداللہ لغاری کے قلم سے نکلی ہوئی ''مولانا عبیداللہ سندھی کی سرگزشتِ کابل‘‘ کے مطالعے کا موقع ملا ہے؟
ان سوالات سے خدانخواستہ آپ کا امتحان لینا مقصود نہیں۔ مقصد کچھ اور ہے، جس کا ذکر میں چند سطروں کے بعد کروں گا۔
مولانا ابوالکلام آزاد جب ہندوستان کے علمی و سیاسی افق پر نمودار ہوئے تو ان کے جاہ و جلال کا رنگ ہی کچھ اور تھا۔ مسلمانوں نے جانا کہ کوئی ان کی عظمتِ رفتہ کو آواز دے رہا ہے۔ انہیں خیال ہوا کہ قرنِ اوّل کا کوئی ہیرو کتابوں کے اوراق سے نکل کر، ان کی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ 'ہندوستان میں حکومت ِالہیہ کا قیام‘... کیا شاندار نعرہ تھا جو اہلِ اسلام کے کانوں سے ٹکرایا اور ان کی سماعتوں کو مسحور کر گیا۔ اہلِ علم نے محسوس کیا کہ ابن تیمیہ اور صلاح الدین ایوبی ایک قالب میں ڈھل گئے ہیں۔ شیخ الہند جیسے رجلِ رشید نے گمان کیا کہ وہ امامِ وقت آ گیا ہے جس کا انتظار تھا۔.............

9 months ago

قومی ریاست کا زوال؟

Khursheed Nadeem    Lahore    خبریں   

کیا دنیا ایک عالمگیر حکومت کی طرف بڑھ رہی ہے؟ قومی ریاست کا تصورکیا اب قصۂ پارینہ ہے؟
تبدیلی کا عمل اس تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ اسے کسی نظری ڈھانچے (Discourse) میں بدلنا آسان نہیں۔ کم و بیش ایک سو امریکی کمپنیاں صدر ٹرمپ کے اس اندازِ نظر کے خلاف متحد ہو گئی ہیں جو انہوں نے تارکین وطن کے باب میں اختیار کیا ہے۔ سرمایہ اگر سیاست و معاشرت کی صورت گری کرے گاتو پھر ریاست کو اس کے مفادات کے تابع ہونا پڑے گا۔ ٹرمپ جو خود ایک سرمایہ دار ہیں، انہیں یہ بات سمجھ نہیںآ رہی

9 months ago

رائے ساز

Khursheed Nadeem    Lahore    خبریں   

رائے ساز
اکثرخیال ہوتا ہے کہ رائے ساز ی کو کسی معیار کا پابند بنانا چاہیے، قانون کے ذریعے یا پھرسماجی رویے سے۔
جو آدمی سماجی علوم کے مبادیات سے واقف نہ ہو،کیا اسے یہ حق مل جانا چاہیے کہ وہ سیاست ومعاشرت پر عوام کی رائے سازی کرے؟ کیا لکھنے کے لیے محض ایک قلم اور ایک کاغذ بہت ہیں؟ کیا مذہب و تاریخ سے مکمل لاعلمی کے ساتھ کسی کو یہ حق دے دینا چاہیے کہ وہ ٹی وی سکرین پر جلوہ افروز ہو اور عوام کے جذبات سے کھیلتا رہے؟ کیا سماج اور ریاست کا فرق جانے بغیر، حالاتِ حاضرہ پر بات ہو سکتی ہے؟

9 months ago

عالمی تصادم کی مذہبی تعبیرات

Khursheed Nadeem    خبریں   

عالمی تصادم کی مذہبی تعبیرات
حیرت ہوتی ہے کہ لوگ فکری تضادات کے ساتھ کیسے نباہ کرلیتے ہیں؟ لکھنے والے بھی اور پڑھنے والے بھی۔
لوگ پیش گوئیوں کی بنیاد پر ایک بیانیہ ترتیب دیتے ہیں مگر ان پیش گوئیوںکو نظر انداز کرتے ہیں جو یقینی ذرائع سے ہم تک پہنچیں اور ان کو قبول کرتے ہیں جو ہر پہلو سے ظنی ہیں۔ یہ محض فکری بحث ہوتی تو گورا تھا لیکن وہ اس پر قانع نہیں ہوتے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کا اطلاق اپنے عہد کے واقعات پر کرتے اورکتاب وسنت کی کسی سند کے بغیر یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی جان دیں اور دوسروں کی جان لیں...

9 months ago

انتہا پسندی کیسے پھیلتی ہے؟

Khursheed Nadeem    خبریں   

انتہا پسندی کیسے پھیلتی ہے؟
جب مسجد کا منبر مذہبی اور مسلکی منافرت پھیلانے کے لیے وقف ہو جائے۔ جب ٹی وی سکرین اُن مذہبی اداکاروں کے قبضے میں ہو جو ریٹنگ کے لیے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے اور اسے حمیتِ دین کا نام دیتے ہوں۔ جب سیاسی راہنما نوجوانوں میں ہیجان پیدا کرتے اور انہیں تعلیم دیتے ہوں کہ ملک کا قانون، آئین اور ادارے سب بے معنی ہیں...

9 months ago

حقوق اور انصاف

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

جب عورت کے انفرادی وجود کا انکار کرتے ہوئے، اسے مرد کے استعمال کی ایک شے سمجھا جاتا تھا تو اس کی عزت کا ایک تصور تھا۔ اگرایک غیر اخلاقی واقعے میںکسی خاتون کا ذکرآجاتا تومتعلقہ مرد، وہ باپ ہو یا بیٹا، بھائی ہو یا شوہر، اسے اپنی توہین سمجھتا تھا۔ یوں اپنی عزت کے نام پر خاتون کی جان لے لیتا اور اس کو بہادری یا غیرت سمجھا جاتا۔ اگر یہی حرکت کسی مرد سے سرزد ہوتی توکسی باپ، کسی بھائی یا بیٹے کی عزت پر کوئی حرف نہ آتا۔ اس کی غیرت کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔ گویا 'عزت‘ عورت کی ہوتی ہے مرد کی نہیں۔ عہدِ جاہلیت کا یہ تصورہمارے معاشرے میں آج بھی زندہ ہے۔کردار کا تعلق عورت سے ہے۔ مرد کے لیے یہ ایک بے معنی تصور ہے۔

9 months ago

لبرل ازم ، مذہب اور معاشرہ

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

لبرلز اور مذہبی لوگوں کو ایک بات سمجھنا ہوگی: سماجی تشکیل، نظریات نہیں، رویوں کی بنیاد پر ہو تی ہے۔ لبرل ازم رویہ بھی ہے اورنظریہ بھی۔ مذہب بھی دونوں کا مجموعہ ہے۔ جہاں تک میں جان سکا ہوں، رویے کے باب میں کم از کم سماجی سطح پر دونوں میں اتفاق زیادہ اور اختلاف کم ہے۔ پھر یہ ہنگامہ آرائی کیا ہے؟

9 months ago

فرقہ واریت اور دہشت گردی

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

دہشت گردوں کو ہم نے بڑی حد تک ختم کر دیا۔ اس کو قومی الیکشن پلان کی کامیابی کہنا چاہیے۔ تاہم انتہا پسندی کو ہم ابھی تک ختم نہیں کر پائے، یوں دہشت گردی کا امکان اور خوف باقی ہے۔ میں اگر یہ کہوں کہ اس سمت میں ریاست نے ابھی تک پہلا قدم ہی نہیں اٹھایا تو اس میں مبالغہ نہیں ہوگا۔ انتہا پسندی ہی وہ درخت ہے جس پر دہشت گردی کا پھل لگتا ہے۔ اس کی ایک قسم فرقہ واریت ہے۔ فرقہ واریت کو بالعموم مسلکی اختلاف کے ساتھ خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ مقدمہ قائم کیا جاتا ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں کوئی تعلق نہیں۔ مسلکی اختلاف دہشت گردی کا کم از کم بڑے پیمانے پر سبب نہیں ہے، لیکن فرقہ واریت دہشت گردی کی ماں ہے۔

9 months ago

لاپتہ افراد کا قصہ

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

داد دیجیے اس معاشرے کو کہ اس مسئلے میں بھی وہ گروہی تقسیم نمایاں ہے جس میں سب اپنے اپنے دھڑے کے ساتھ کھڑے ہیں۔کوئی مذمت بھی کرتا ہے تو اس بکری کی طرح جو دودھ دیتے وقت، اس میں مینگنیاں ڈال دیتی ہے۔گروہی عصبیت جب خود حق و باطل کا معیار بن جائے تو پھر یہی ہوتا ہے۔کچھ لوگ غائب ہوئے جو سیکولر خیالات رکھتے تھے۔ اس پر صرف وہ طبقہ پریشان ہے جو ان سے فکری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ انہوں نے شاید وہ خبر نہیں پڑھی جس میں بتایا گیا ہے کہ تحریکِ ختم نبوت سے تعلق رکھنے والا ایک آ دمی بھی غائب ہوا ہے۔ ختم ِنبوت والوں تک ابھی یہ خبر نہیں پہنچی کہ اسی طرح کچھ سیکولر خیالات کے حامل افراد بھی غائب ہو چکے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہمیں اس پر اعتراض نہیں کہ لوگ غائب کیوں ہوتے ہیں، ہمار اعتراض یہ ہے کہ ہمارے لوگ کیوں غائب ہوتے ہیں؟

9 months ago

پیپلزپارٹی: تنظیم نو یا تشکیلِ نو؟

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

پیپلزپارٹی کو آج تنظیم ِنو سے زیادہ تشکیلِ نوکی ضرورت ہے۔
ایک اچھی خبر یہ ہے کہ بلاول بھٹونے ترقی پسند خیالات رکھنے والے اہلِ علم و دانش سے ملاقات کی ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹررسول بخش رئیس اور کچھ اور۔ یہ کام انہیں بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ ہر جماعت کو اپنی بقا کے لیے صرف سیاسی کارکنوں اور سیاست دانوں ہی کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے اہلِ علم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جماعتیں جب ان سے بے نیاز ہو جائیں تو وہ اندھیرے میں دیواروں سے سر ٹکراتی رہتی ہیں، انہیں راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ پھر وہ ایک ایسے مسافر کی طرح ہوتی ہیں جو کسی زادِ راہ کے بغیر محض عزمِ سفر کے ساتھ گھر سے نکل پڑے۔ محض عزم سے چند قدم تو اٹھائے جا سکتے ہیں، سفر طے نہیں کیا جا سکتا۔

9 months ago

2017ء کا ایجنڈا

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

ء کیسا ہوگا؟2017
اس سوال پر غورکا ایک زاویہ ہمارا ہے اور ایک ان کا جنہیں ہم اغیار کہتے ہیں۔ وہی جو آج دنیا کے حاکم ہیں۔ جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ ہم سے خوف زدہ اور ہماری تاک میں رہتے ہیں۔ ایک ایجنڈا ان کا ہے اور ایک ہمارا۔ پہلے اغیار کی بات۔

9 months ago

پیغمبر اور اُمتی

Khursheed Nadeem    Islamabad    خبریں   

اُمت کا اپنے پیغمبر سے زندہ تعلق کیسے قائم ہو؟
مذہب کے پس منظر میں جب ایک امت وجود میں آتی ہے تو اس کامرکز و محور پیغمبر ہوتا ہے۔ پیغمبر سے امت کی تاسیس ہوتی ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے پیغمبر سے منسوب ہوتے ہیں۔ الہامی روایت پیغمبروں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتی۔ وہ انہیں ایک سلسلۃالذہب کی مختلف کڑیوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ایک ہی دین ہے جس کو وہ اپنی اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے جب انبیاؑء ما سبق کا ذکر فرمایا تو انہیں اپنا بھائی کہا۔ اس یک جہتی اور وحدت کے ساتھ، جب کسی قوم میں سے اللہ تعالیٰ ایک فرد کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ حق کا تنہا نمائندہ اور ماخذ ہوتا ہے۔ پھر اسی کے گرد اہلِ ایمان جمع ہوتے اور یوں ایک امت کی ابتدا ہوتی ہے۔ پیغمبر اس لیے مبعوث کیے جاتے ہیں کہ وہ انسانوں کو ان کے رب کی طرف بلائیں اور ان کے سامنے یہ مثال پیش کریں کہ انہیں اپنے پروردگار کے احکام پر کس طرح عمل کرنا ہے۔گویا پیغمبر ایک آئیڈیل ہوتا ہے: اسوۂ حسنہ۔

9 months ago

پاپولزم اور پاکستانی سیاست

Khursheed Nadeem    خبریں   

پاپولزم اور پاکستانی سیاست
خورشید ندیم
مجھ جیسے لوگ یہ خواہش کرتے رہے کہ تحریکِ انصاف اپنا مقدمہ پارلیمنٹ میں پیش کرے۔ خیال یہ تھا کہ ملک کو ڈی چوک کی اُس سیاست سے نجات ملے گی جس نے عوام کے ایک طبقے کو ہیجان میں مبتلا کر کے، اسے عقل و خرد سے بیگانہ کردیا ہے۔ کیا خبر تھی کہ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ ہی ڈی چوک بن جائے گی ؎
میں نے پھولوں کی آرزوکی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیا